جامعہ دار الہدی مرکزی بنوں
مدیر و منتظم مفتی محمد عبداللہ نقشبندی مجددی
بانی و مہتمم
حضرت مولانا پیر گل رئیس نقشبندی مجددی
جامعہ دار الہدی مرکزی بنوں
مدیر و منتظم مفتی محمد عبداللہ نقشبندی مجددی
بانی و مہتمم
حضرت مولانا پیر گل رئیس نقشبندی مجددی
جامعہ دار الہدی مرکزی بنوں
مدیر و منتظم مفتی محمد عبداللہ نقشبندی مجددی
بانی و مہتمم
حضرت مولانا پیر گل رئیس نقشبندی مجددی
منتخب سوالات
نئے سوالات
تاریخ: 18-04-2024
ڈیجیٹل کرنسی میں انوسمنٹ کا حکم
یجیٹل کرنسی کا کیا حکم ہے ؟ ڈیجیٹل کرنسی کی لین دین کی جا سکتی ہے؟ ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے منافع بخش کاروبار کرنا کیسا ہے؟ اگر یہ حلال ہے تو کیوں؟ حُرمت کی کیا وجہ ہے؟ براہ کرم دلیل بھی بتائیں ۔
منتخب مضامین
کتابوں کا تعارف

اسلام میں عورت کا مقام
اسلام ،اللہ کی طرف سے بندوں کے لئےکامل وجامع پیغامِ رحمت ہےیہ انسان کی ذہنی وعقلی،اخلاقی ومعاشرتی،جسمانی وروحانی،انفرادی واجتماعی ضرورتوں کا کفیل اور ہر شعبہ حیات میں ترقیوں کا ضامن ہے. اسلام نے انسان کو انسانیت اور اس کے حقیقی مقام سے روشناس کرایااندھیرے میں چراغ کی مانند،دنیا کو اخلاق اور امن کا سبق دے کرجنت نظیربنانےکا فریضہ اداکیااور حقوق وفرائض کے ایسے جامع نظام سے عالمِ انسانیت کو روشناس کیا جو ہرطرح کی شخصی وخانگی،معاشی ومعاشرتی اور ملکی وبین الاقوامی کامیابی کا زریعہ ہے. اسلام نے جس طرح مَردوں کے حقوق وفرائض بیان کیے ہیں بالکل اسی طرح عورتوں کےحقوق وفرائض کا بھی تفصیل سے تذکرہ کیا ہے. اسلام نے عورتوں کوعزت کا وہ مقام عطا کیا ہےجو اس سے پہلے دنیا کے کسی دوسرے مذہب نے نہیں دیا تھاعورت کسی بھی حالت میں کیوں نہ ہو دینِ اسلام نےاُس کے لئے مکمل حقوق مقرر کیے ہیں چاہے وہ ماں کی صورت میں ہو،بہن کی شکل میں ہو،بیٹی کی صورت میں ہو یا بیوی کی شکل میں آج کل انتہائی شَد ومَد سے یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ اسلام نے عورتوں کے حقوق سلب کیے ہیں حالانکہ دینِ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دئیے ہیں عزت واحترام کا جو مقام دیا ہےاس کی نظیر کہیں نہیں ملتی.البتہ ضرورت اس بات کی یقیناً محسوس کی جاتی ہے کہ دینِ اسلام نے جو مقام عورتوں کو عطاکیا ہے ہم بحسنُ وخوبی انہیں وہ مقام اور حقوق دِلوائیں. اس مقصد کی خاطر ”اسلام میں عورتوں کے حقوق اور مرتبہ“ کے عنوان سے ایک ترتیب وار ترغیبی اور دعوتی سلسلہ شروع کرنے کا ارادہ ہے.اللہ کی توفیق شاملِ حال رہی تو پیدائش سے لیکر موت تک اور بعد ازموت عورت کے حقوق شریعت کی روشنی میں بیان کیے جائیں گے۔

بچی کا پہلاحق
بچی کا پہلا حق،اس کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کرنا ہے.اولاد چاہے لڑکا ہو یا لڑکی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جس کی پیدائش پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرنا اور اس کے فضل پر شکر بجا لانا تقاضائے بندگی میں سے ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”اللہ تعالی'اپنے بندے کو جو بھی نعمت عطا کرے خواہ وہ اس کے اہل میں ہو، یا مال میں سے ہو یا اولاد میں سے ہو؛ پھر وہ یہ کہتا ہے: مَا شَاءاللهُ، لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللهِ (الله جو چاہتا ہے کرتا ہے، الله کی عطا کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہے) تو ان نعمتوں میں سے اس کے لیے کوئی مصیبت نہیں آتی۔ سوائے موت کے (جو کہ اپنے وقت پر ضرور آتی ہے)۔ ہمارے معاشرے کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ بیٹی کی پیدائش کو پسند نہیں کیا جاتا اور بیٹی کی پیدائش پرعورت کو ذمہ دار ٹھہرایاجاتاہےحالانکہ اس میں عورت کا کوئی قصور نہیں ہوتا قرآن عظیم الشان میں،اللہ رب العزت نے ساڑھے چودہ سو سال پہلےواضح طور پر فرمایا ہے ”اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین پر۔وہ جوچاہتا ہے پیدا کرتاہے۔ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتاہے۔ اور جسے چاہتاہے لڑکے عطاکرتاہے۔وہ جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا کے دیتاہے۔ اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔بے شک وہ سب کچھ جاننے والا اور قدرت والاہے“۔ اللہ کے اس ارشاد کے بعد کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ عورت کو کوساجائے بلکہ ہر حال میں اللہ کا شکر اداکرنا بندگی کا تقاضہ ہے.اس کے باوجود بھی جو لوگ بیٹی کی پیدائش پر خوشی کا اظہار نہیں کرتے وہ دراصل بچی کا پہلاحق کھاتےہیں اوریہ قدرت کی ناشکری کے زمرے میں بھی آتا ہے جس کا نتیجہ دیگر نعمتوں سے محرومی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہےالبتہ جو لوگ بچی کی پیدائش پر خوشی مناتے ہیں وہ لوگ یقیناًخوش بخت ہوتے ہیں کیونکہ وہ نعمتوں کی فروانی اپنے نام کرلیتے ہیں.اللہ ہمیں بیٹیوں کی قدردانی نصیب فرمائے.

محبت دِلوں کا فاتح
تربیتِ اولاد کے حوالے سے انسان جتنا سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ کرےآخر کار وہ اسی نتیجہ پر پہنچتا ہےکہ محبت بہترین تربیت کا بنیادی عنصر ہے. والدین بچوں کے سب سے پہلے سرپرست اور مربی ہوتے ہیں اگر والدین بچوں کی توجہ،التفات اور محبت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تویہ بہترین تربیت کی پہلی کڑی ہے.محبوب دو جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوجملوں میں تربیتِ اولاد کا مکمل نصاب بیان کیا ہے فرماتے ہیں”بچوں سے محبت کرواور ان کے ساتھ الفت ومحبت سے پیش آٶ“کیونکہ جو والدین چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ یا بچی باکمال بنےمعاشرے میں امتیازی مقام حاصل کرے لوگوں کے لئے مینارہ نور شخصیت بنےتو اس کے لئےپہلے ان کا دل فتح کرنا ضروری ہے تب جاکر ان کے دماغ تک رسائی ممکن ہے اور دل محبت ہی سے فتح کیا جاتاہے. غصہ،تُندی،بے جا سختی سے بچے پر مصنوعی اور وقتی رعب توجمایا جاسکتا ہے بہترین تربیت بہرحال نہیں ہوسکتی لہذا جو والدین اپنے بچوں کے ساتھ دوستی اور بے تکلفی کا رشتہ بنانےمیں کامیاب ہوں اور بچوں میں خوشی،امید اور صلاحیتوں کو زندہ رکھ سکیں تو بجاطورکہاجاسکتا ہے کہ ان کا مستقبل خوشگوار اور پُرسکون ہوگا.

تربیت اولاد کا نرالاانداز
میرا ایک دوست ہےجوشرافت اور ظرافت کا حسین مزاج رکھتاہےسینکڑوں ایسے لطیفے ان کو ازبرہیں جو سننے والے کودیر تک لطف اندوز رکھتے ہیں وہ جب بھی بنوں آتے ہیں میری کوشش ہوتی ہےان سے ملاقات ہوجائے اور کچھ دیر تک ان کی میھٹی،رسیلی اور پُرمزاح گفتگو سے محظوظ ہوجاٶں. دو دن پہلے ان سے ملاقات ہوئی ننھامنھا پیارا بھتیجا بھی ان کےساتھ تھابچہ محفل میں ہو اور شرارتیں نہ کرے تو بیمارلگتا ہےسچی بات یہ ہے کہ بچوں کی مخلصانہ شرارتوں پہ مجھے رشک آتا ہے دوست میرے ساتھ مصروف گفتگو تھے مگر وہ وقتاً فوقتاًبھتیجے کی طرف دیکھتے،ان کو محبت بھرےلہجے میں،انتہائی پیار سے سمجھاتے بیٹا یہ نہ کریں،یہ مناسب نہیں،آپ اچھے بچے ہیں،شاباش ایسا کریں،یہ نہیں کھانا آپ کو کھانسی ہے،کھانے کے لئے اس طرح بیٹھنا ،ہاتھ کو اس طرح صاف کرنا ، وہ جس انداز میں سمھجارہے تھے مجھے بہت اچھا لگ رہا تھااورزیادہ خوشی کی بات میرے لئے یہ تھی کہ چھوٹا بچہ اپنے چچا کی ہر بات کو مان رہا تھااور ناگواری کی کوئی کیفیت بچے کے چہرے پہ دیکھنے کو نہیں ملتی بلکہ مثبت اثرات ان کے چہرے پہ پھیلتے ہوئے محسوس ہوتے “ میں دوست کی باتوں اور حرکتوں کو سنجیدگی سے دیکھ رہا تھابلکہ ان سے اندازِ تربیت سیکھ رہاتھا.رخصتی کے موقع پر میں نے ان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عرض کیاآج آپ نے مجھے عملی طور پر بتایاکہ چھوٹے بچوں کی بہترین تربیت یوں بھی ہوسکتی ہےکہ ڈانٹنے کی بجائےان کی شرارتوں کوبہترین تربیت میں بدلا جاسکتاہےضرورت مگر اس بات کی ہے کہ ہم تربیتِ اولاد کے معاملہ میں سنجیدہ ہوجائیں،تھوڑا اپنے اندرحوصلہ پیدا کریں۔ رعب جمانا چھوڑدیں۔ محبت سے سمجھانا سیکھیں اور بچوں سے محبت کرنا سیکھیں تو مجھے یقین ہے والدین کا بوڑھاپا شاندار ہوگا“ میرا دوست چلا گیا مگر ابھی تک اس کے حسنِ تربیت کا اثر دل ودماغ پہ نہ صرف چھایا ہوا ہے بلکہ اسی وقت سےمصمم ارادہ بھی کیاکہ آج کے بعد بچوں کی تربیت کا یہ طریقہ اپنی زندگی کا حصہ بناٶں گا.اللہ رب العزت تمام بچوں کو والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے.

?وسوسے کیوں آتے ہیں
حضرت مولانا گل رئیس نقشبندی مدظلہ کی لکھی ہوئی مقبولِ عام کتاب ہے.جس کے تقریباً چالیس ایڈیشن اب تک شائع ہوچکے ہیں.اراکین قاسم نانوتویؒ لائبریری نے ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے. جس میں کتاب کا تعارف اوراندرونِ کتاب کی تصاویر کو ویڈیو کی صورت میں بنایا جائے گا .اللہ ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے.

اللہ کےنام میں زندگی ہے
تالیف حضرت مولاناپیر گل رئیس نقشبندی مدظلہ لفظ اللہ کی وجہ تسمیہ لفظ اللہ کی خصوصیات اللہ کی عظمتِ شان اللہ کی جلالتِ شان اللہ کی معرفت اللہ کی محبت جیسے عنوانات پر مشتمل کتاب

عادت کو عبادت بنائیں سنتِ نبویؐ کو اپنائیں
تالیف: حضرت مولانا پیر گل رئیس نقشبندی مدظلہ محبوبِ دو جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولاتِ مبارکہ، عاداتِ مبارکہ اور اوصافِ مبارکہ کا عام فہم اور مختصر انداز میں دل چسپ تذکرہ

اسلام میرا پسندیدہ مذہب کیوں؟
تالیف: حضرت مولانا پیر گل رئیس نقشبندی مدظلہ ٠دینِ اسلام دینِ فطرت، مگر کیسے؟ ٠دینِ اسلام انسانی حقوق کا علمبردار مذہب ہے ٠دینِ اسلام نے عورت کو کیا دیا؟ ٠دینِ اسلام کا دیگر ادیان کے ساتھ تقابلی جائزہ ٠دینِ اسلام کی امتیازی خصوصیات ٠احکاماتِ اسلام عقل کی نظر میں جیسے عنوانات پر مشتمل کتاب، جو اردو زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں بھی دستیاب ہے.
مقالات
نماز کے اوقات
کتابیں
28 شوال 1445ھ 07 مئی 2024 ء کراچی میں نماز کے اوقات
- 05:52 ___ طلوع
- 05:52 ___ فجر
- 05:52 ___ عصر
- 05:52 ___ زوال
- 05:52 ___ عشاء
- 05:52 ___ غروب
مسنون و ماثور دعائیں
مسنون و ماثور دعائیں
جامعہ دار الہدی مرکزی بنوں
بانی و مہتمم
حضرت مولانا پیر گل رئیس نقشبندی مجددی
مدیر و منتظم مفتی محمد عبداللہ نقشبندی مجددی
جامعہ دار الہدی مرکزی بنوں
بانی و مہتمم
حضرت مولانا پیر گل رئیس نقشبندی مجددی
مدیر و منتظم مفتی محمد عبداللہ نقشبندی مجددی
جامعہ دار الہدی مرکزی بنوں
بانی و مہتمم
حضرت مولانا پیر گل رئیس نقشبندی مجددی
مدیر و منتظم مفتی محمد عبداللہ نقشبندی مجددی

تعارف بانی جامع ہذا
آپ کے مسائل اور ان کا حل
منتخب سوالات
نئے سوالات
تاریخ: 18-04-2024
ڈیجیٹل کرنسی میں انوسمنٹ کا حکم
یجیٹل کرنسی کا کیا حکم ہے ؟ ڈیجیٹل کرنسی کی لین دین کی جا سکتی ہے؟ ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے منافع بخش کاروبار کرنا کیسا ہے؟ اگر یہ حلال ہے تو کیوں؟ حُرمت کی کیا وجہ ہے؟ براہ کرم دلیل بھی بتائیں ۔
کتابوں کا تعارف

عادت کو عبادت بنائیں سنتِ نبویؐ کو اپنائیں
تالیف: حضرت مولانا پیر گل رئیس نقشبندی مدظلہ محبوبِ دو جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولاتِ مبارکہ، عاداتِ مبارکہ اور اوصافِ مبارکہ کا عام فہم اور مختصر انداز میں دل چسپ تذکرہ

اسلام میرا پسندیدہ مذہب کیوں؟
تالیف: حضرت مولانا پیر گل رئیس نقشبندی مدظلہ ٠دینِ اسلام دینِ فطرت، مگر کیسے؟ ٠دینِ اسلام انسانی حقوق کا علمبردار مذہب ہے ٠دینِ اسلام نے عورت کو کیا دیا؟ ٠دینِ اسلام کا دیگر ادیان کے ساتھ تقابلی جائزہ ٠دینِ اسلام کی امتیازی خصوصیات ٠احکاماتِ اسلام عقل کی نظر میں جیسے عنوانات پر مشتمل کتاب، جو اردو زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں بھی دستیاب ہے.
منتخب مضامین

اسلام میں عورت کا مقام
اسلام ،اللہ کی طرف سے بندوں کے لئےکامل وجامع پیغامِ رحمت ہےیہ انسان کی ذہنی وعقلی،اخلاقی ومعاشرتی،جسمانی وروحانی،انفرادی واجتماعی ضرورتوں کا کفیل اور ہر شعبہ حیات میں ترقیوں کا ضامن ہے. اسلام نے انسان کو انسانیت اور اس کے حقیقی مقام سے روشناس کرایااندھیرے میں چراغ کی مانند،دنیا کو اخلاق اور امن کا سبق دے کرجنت نظیربنانےکا فریضہ اداکیااور حقوق وفرائض کے ایسے جامع نظام سے عالمِ انسانیت کو روشناس کیا جو ہرطرح کی شخصی وخانگی،معاشی ومعاشرتی اور ملکی وبین الاقوامی کامیابی کا زریعہ ہے. اسلام نے جس طرح مَردوں کے حقوق وفرائض بیان کیے ہیں بالکل اسی طرح عورتوں کےحقوق وفرائض کا بھی تفصیل سے تذکرہ کیا ہے. اسلام نے عورتوں کوعزت کا وہ مقام عطا کیا ہےجو اس سے پہلے دنیا کے کسی دوسرے مذہب نے نہیں دیا تھاعورت کسی بھی حالت میں کیوں نہ ہو دینِ اسلام نےاُس کے لئے مکمل حقوق مقرر کیے ہیں چاہے وہ ماں کی صورت میں ہو،بہن کی شکل میں ہو،بیٹی کی صورت میں ہو یا بیوی کی شکل میں آج کل انتہائی شَد ومَد سے یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ اسلام نے عورتوں کے حقوق سلب کیے ہیں حالانکہ دینِ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دئیے ہیں عزت واحترام کا جو مقام دیا ہےاس کی نظیر کہیں نہیں ملتی.البتہ ضرورت اس بات کی یقیناً محسوس کی جاتی ہے کہ دینِ اسلام نے جو مقام عورتوں کو عطاکیا ہے ہم بحسنُ وخوبی انہیں وہ مقام اور حقوق دِلوائیں. اس مقصد کی خاطر ”اسلام میں عورتوں کے حقوق اور مرتبہ“ کے عنوان سے ایک ترتیب وار ترغیبی اور دعوتی سلسلہ شروع کرنے کا ارادہ ہے.اللہ کی توفیق شاملِ حال رہی تو پیدائش سے لیکر موت تک اور بعد ازموت عورت کے حقوق شریعت کی روشنی میں بیان کیے جائیں گے۔

بچی کا پہلاحق
بچی کا پہلا حق،اس کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کرنا ہے.اولاد چاہے لڑکا ہو یا لڑکی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے جس کی پیدائش پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرنا اور اس کے فضل پر شکر بجا لانا تقاضائے بندگی میں سے ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”اللہ تعالی'اپنے بندے کو جو بھی نعمت عطا کرے خواہ وہ اس کے اہل میں ہو، یا مال میں سے ہو یا اولاد میں سے ہو؛ پھر وہ یہ کہتا ہے: مَا شَاءاللهُ، لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللهِ (الله جو چاہتا ہے کرتا ہے، الله کی عطا کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہے) تو ان نعمتوں میں سے اس کے لیے کوئی مصیبت نہیں آتی۔ سوائے موت کے (جو کہ اپنے وقت پر ضرور آتی ہے)۔ ہمارے معاشرے کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ بیٹی کی پیدائش کو پسند نہیں کیا جاتا اور بیٹی کی پیدائش پرعورت کو ذمہ دار ٹھہرایاجاتاہےحالانکہ اس میں عورت کا کوئی قصور نہیں ہوتا قرآن عظیم الشان میں،اللہ رب العزت نے ساڑھے چودہ سو سال پہلےواضح طور پر فرمایا ہے ”اللہ ہی کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین پر۔وہ جوچاہتا ہے پیدا کرتاہے۔ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتاہے۔ اور جسے چاہتاہے لڑکے عطاکرتاہے۔وہ جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا کے دیتاہے۔ اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے۔بے شک وہ سب کچھ جاننے والا اور قدرت والاہے“۔ اللہ کے اس ارشاد کے بعد کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ عورت کو کوساجائے بلکہ ہر حال میں اللہ کا شکر اداکرنا بندگی کا تقاضہ ہے.اس کے باوجود بھی جو لوگ بیٹی کی پیدائش پر خوشی کا اظہار نہیں کرتے وہ دراصل بچی کا پہلاحق کھاتےہیں اوریہ قدرت کی ناشکری کے زمرے میں بھی آتا ہے جس کا نتیجہ دیگر نعمتوں سے محرومی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہےالبتہ جو لوگ بچی کی پیدائش پر خوشی مناتے ہیں وہ لوگ یقیناًخوش بخت ہوتے ہیں کیونکہ وہ نعمتوں کی فروانی اپنے نام کرلیتے ہیں.اللہ ہمیں بیٹیوں کی قدردانی نصیب فرمائے.

محبت دِلوں کا فاتح
تربیتِ اولاد کے حوالے سے انسان جتنا سیرتِ مبارکہ کا مطالعہ کرےآخر کار وہ اسی نتیجہ پر پہنچتا ہےکہ محبت بہترین تربیت کا بنیادی عنصر ہے. والدین بچوں کے سب سے پہلے سرپرست اور مربی ہوتے ہیں اگر والدین بچوں کی توجہ،التفات اور محبت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تویہ بہترین تربیت کی پہلی کڑی ہے.محبوب دو جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوجملوں میں تربیتِ اولاد کا مکمل نصاب بیان کیا ہے فرماتے ہیں”بچوں سے محبت کرواور ان کے ساتھ الفت ومحبت سے پیش آٶ“کیونکہ جو والدین چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ یا بچی باکمال بنےمعاشرے میں امتیازی مقام حاصل کرے لوگوں کے لئے مینارہ نور شخصیت بنےتو اس کے لئےپہلے ان کا دل فتح کرنا ضروری ہے تب جاکر ان کے دماغ تک رسائی ممکن ہے اور دل محبت ہی سے فتح کیا جاتاہے. غصہ،تُندی،بے جا سختی سے بچے پر مصنوعی اور وقتی رعب توجمایا جاسکتا ہے بہترین تربیت بہرحال نہیں ہوسکتی لہذا جو والدین اپنے بچوں کے ساتھ دوستی اور بے تکلفی کا رشتہ بنانےمیں کامیاب ہوں اور بچوں میں خوشی،امید اور صلاحیتوں کو زندہ رکھ سکیں تو بجاطورکہاجاسکتا ہے کہ ان کا مستقبل خوشگوار اور پُرسکون ہوگا

تربیت اولاد کا نرالاانداز
میرا ایک دوست ہےجوشرافت اور ظرافت کا حسین مزاج رکھتاہےسینکڑوں ایسے لطیفے ان کو ازبرہیں جو سننے والے کودیر تک لطف اندوز رکھتے ہیں وہ جب بھی بنوں آتے ہیں میری کوشش ہوتی ہےان سے ملاقات ہوجائے اور کچھ دیر تک ان کی میھٹی،رسیلی اور پُرمزاح گفتگو سے محظوظ ہوجاٶں. دو دن پہلے ان سے ملاقات ہوئی ننھامنھا پیارا بھتیجا بھی ان کےساتھ تھابچہ محفل میں ہو اور شرارتیں نہ کرے تو بیمارلگتا ہےسچی بات یہ ہے کہ بچوں کی مخلصانہ شرارتوں پہ مجھے رشک آتا ہے دوست میرے ساتھ مصروف گفتگو تھے مگر وہ وقتاً فوقتاًبھتیجے کی طرف دیکھتے،ان کو محبت بھرےلہجے میں،انتہائی پیار سے سمجھاتے بیٹا یہ نہ کریں،یہ مناسب نہیں،آپ اچھے بچے ہیں،شاباش ایسا کریں،یہ نہیں کھانا آپ کو کھانسی ہے،کھانے کے لئے اس طرح بیٹھنا ،ہاتھ کو اس طرح صاف کرنا ، وہ جس انداز میں سمھجارہے تھے مجھے بہت اچھا لگ رہا تھااورزیادہ خوشی کی بات میرے لئے یہ تھی کہ چھوٹا بچہ اپنے چچا کی ہر بات کو مان رہا تھااور ناگواری کی کوئی کیفیت بچے کے چہرے پہ دیکھنے کو نہیں ملتی بلکہ مثبت اثرات ان کے چہرے پہ پھیلتے ہوئے محسوس ہوتے “ میں دوست کی باتوں اور حرکتوں کو سنجیدگی سے دیکھ رہا تھابلکہ ان سے اندازِ تربیت سیکھ رہاتھا.رخصتی کے موقع پر میں نے ان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عرض کیاآج آپ نے مجھے عملی طور پر بتایاکہ چھوٹے بچوں کی بہترین تربیت یوں بھی ہوسکتی ہےکہ ڈانٹنے کی بجائےان کی شرارتوں کوبہترین تربیت میں بدلا جاسکتاہےضرورت مگر اس بات کی ہے کہ ہم تربیتِ اولاد کے معاملہ میں سنجیدہ ہوجائیں،تھوڑا اپنے اندرحوصلہ پیدا کریں۔ رعب جمانا چھوڑدیں۔ محبت سے سمجھانا سیکھیں اور بچوں سے محبت کرنا سیکھیں تو مجھے یقین ہے والدین کا بوڑھاپا شاندار ہوگا“ میرا دوست چلا گیا مگر ابھی تک اس کے حسنِ تربیت کا اثر دل ودماغ پہ نہ صرف چھایا ہوا ہے بلکہ اسی وقت سےمصمم ارادہ بھی کیاکہ آج کے بعد بچوں کی تربیت کا یہ طریقہ اپنی زندگی کا حصہ بناٶں گا.اللہ رب العزت تمام بچوں کو والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے.
نماز کے اوقات
28 شوال 1445ھ 07 مئی 2024 ء کراچی میں نماز کے اوقات
- 05:52 ___ طلوع
- 05:52 ___ فجر
- 05:52 ___ عصر
- 05:52 ___ زوال
- 05:52 ___ عشاء
- 05:52 ___ غروب


